کراچی : وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے سالانہ بجٹ 2019/20 میں کئی ارب روپے کی کٹوتی اورسندھ حکومت کی جانب سے جامعات کے لیے مختص بجٹ سے گرانٹ جاری نہ کرنے کے سبب صوبے کی سرکاری جامعات نے اپنے انتظامی وتدریسی معاملات کو چلانے کے لیے نجی بینکوں سے قرضہ لینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
’’ایکسپریس‘‘ کو معلوم ہواہے کہ صوبے کی کم از کم 4 سرکاری جامعات : سندھ یونیورسٹی جامشورو، شاہ عبدالطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور،قائد عوام یونیورسٹی آف انجینیئرنگ ،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اورزرعی یونیورسٹی ٹنڈونے حال ہی میں اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں اوردیگریوٹٰیلٹی بلزکی ادائیگی کے لیے نجی بینک سے کئی کروڑروپے کا قرضہ حاصل کرلیا ہے ۔
ادھرجامعہ کراچی نے گرانٹ میں کٹوتی کے سبب سائنسی شعبہ جات کے لیے کیمیکلز اور کمپیوٹرزکی خریداری اورپانی کے بلزکی ادائیگی سمیت دیگرکئی ادائیگیاں روک دی ہیں اور روکی گئی مختلف ادائیگیوں سے بچنے والی رقم سے محض تنخواہیں اورپینشن سمیت دیگریوٹیلٹی بلز کی ادائیگیاں کی جارہی ہیں جبکہ حیدرآبادمیں قائم کی گئی۔
پہلی سرکاری جامعہ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآبادکالی موریتاحال کالج فنڈزسے چلائی جارہی ہے اوریونیورسٹی میں پہلی بارداخلے بھی بغیر کسی یونیورسٹی فنڈکے شروع ہورہے ہیں ۔
یادرہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں تقریباً7ارب روپے کی کمی کیے جانے کے بعد سندھ سمیت ملک بھرکی سرکاری جامعات کے غیرترقیاتی بجٹ recurring budgetمیں 10سے 11فیصد تک کمی کردی ہے۔ ایچ ای سی کوملک کی سرکاری جامعات کے لیے 59بلین روپے کی غیرترقیاتی گرانٹ جاری کی گئی ہے۔
گزشتہ برس یہ گرانٹ 65بلین روپے سے کچھ زیادہ تھی۔ وفاقی حکومت نے اس کمی کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ حکومت سندھ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیاہے۔ نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی ختم ہونے کے قریب ہے تاہم حکومت سندھ تاحال صوبے کی سرکاری جامعات کواسپیشل گرانٹ کی مد میں بجٹ جاری نہیں کرسکی ہے جبکہ خود سندھ حکومت سرکاری جامعات کے اساتذہ کی پی ایچ ڈی گرانٹ 10ہزارروپے ماہانہ سے بڑھاکر25ہزاروپے ماہانہ کرچکی ہے۔
ادھرسندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ وملازمین اپنی اپنی انتظامیہ سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے اضافے کے تحت کیاجائے ۔
واضح رہے کہ اس صورتحال کے تناظرمیں سرکاری جامعات کے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ’’فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن ‘‘(فپواسا)سندھ چیپٹرکی جانب سے ہڑتال کے اعلان کے بعد سندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ رواں ہفتے دوروز کے لیے اکیڈمک بائیکاٹ پر جارہے ہیں اورکراچی سمیت پورے سندھ کی سرکاری جامعات میں 25اور26ستمبرکوتدریسی عمل کامکمل بائیکاٹ رہے گا۔
فپواساکی رہنما اورانجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی صدرپروفیسر انیلاامبرملک نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ 25اور26ستمبرکوپورے سندھ میں بائیکاٹ ہوگا، یکم اکتوبرکوطے آئند کالائحہ عمل طے کریں گے اورامکان ہے کہ سندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ غیرمعینہ مدت تک تدریسی بائیکاٹ پر چلے جائیں۔
The post بجٹ کٹوتی فنڈ کا عدم اجرا، سندھ کی 4 جامعات نے بینکوں سے قرضے لے لیے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ldlI8q
